سوختہ جان

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - افسردہ و پژمردہ، مصیبت زدہ، آفت زدہ، عاشق، مہجور۔  میں نے سوچا ہے بہت سوچا یہ آخر پایا دہر میں سوختہ جانوں کا مقدر ہے یہی      ( ١٩٧٨ء، ابنِ انشا، دلِ وحشی، ١٧٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکبِ توصیفی ہے۔ فارسی سے اسم صفت 'سوختہ' کے ساتھ فارسی اسم 'جان' بطور موصوف بڑھانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٧٨ء کو "گلزارِ داغ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔